زیارت ِ امام حسین ؑ کی معرفت

روایاتِ معصومین ؑ میں زیارت ِ امام حسین ؑ کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔  اعمال کا ثواب معرفت کے مطابق ہے۔ لہذاہمیں خود اس زیارت کی بھی معرفت ہونی چاہیے۔ اس زیارت کی فضیلت  کے بیان اور معرفت کیلئے کچھ روایات پیشِ خدمت ہیں۔

روایت اول :

محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر   ؑ سے روایت کی ہے:

“مُرُوا شِیعَتَنَا بِزیَارَةِ قَبْر الْحُسَیْنِ بْنِ عَلیٍّ   ؑ، فَاِنَّ اِتیَانَہُ مُفْتَرَضٌ عَلَی کُلِّ مُوٴْمِنٍ یُقِرُّ لِلحُسَیْنِ بِالاِمَامَةِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔[1]

“ہمارے شیعوں کو زیارت قبر حسین   ؑ کی طرف حکم دو کیونکہ آپ کی زیارت ہر اس مومن پر لازم ہے جو خدا کی طرف سے آپ کی امامت کا اقرار کرتا ہے”۔

روایت دوم:

حضرت امام صادق   ؑ نے فرمایا:

“مَنْ زَارَ قَبْرَ الْحُسَیْنِ لِلّٰہِ وَفی اللّٰہِ، اٴعْتَقَہْ اللّٰہ مِنَ النّٰارِ، وَآمَنَہُ یَوْمَ الْفَزَعِ الاٴکبَرِ، وَلَمْ یَسئَلِ اللّٰہَ حَاجَةً مِن حَوَائِجِ الدُّنیاَ وَالآخِرَةِ اِلاّ اٴعطاَہُ”۔[2]

“جو شخص امام حسین   ؑ کی خوشنودی خدا کے لئے اور فی سبیل الله زیارت کرے تو خداوندعالم اس کو آتش جہنم  سے نجات عطا کرے گا اور قیامت کے دن اس کو امان دے گا، اور خداوندعالم سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب نہیں کرے گا مگر یہ کہ خداوندعالم اس کی حاجت پوری کردے گا”۔

روایت سوم:

حضرت امام صادق   ؑ نے فرمایا:

“مَنْ لَمْ یَاٴْت قَبْرَ الْحُسَیْنِ حَتّٰی یَمُوتَ، کاَنَ مُنْتَقَصَ الدِّیْنِ، مُنْتَقَصَ الْاٴِیْمٰانِ، وَاِنْ اٴُدْخِلَ الْجَنَّةَ کاَنَ دُوْنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ فی الْجَنَّةِ”۔[3]

“جو شخص امام حسین   ؑ کی زیارت کے لئے نہ جائے یہاں  تک کہ مرجائے تو ایسا شخص دین و ایمان کے لحاظ سے ناقص ہے، اور اگر جنت میں داخل هوجائے تو اس کا درجہ تمام اہل ایمان سے کم ہے”۔

روایت چہارم:

حضرت امام رضا   ؑ نے فرمایا:

“مَنْ زَارَ قَبْرَالحُسَیْنِ بِشَطِّ الفُرَاتِ،کاَنَ کَمَنْ زَارَ اللّٰہَ فَوْقَ عَرْشِہِ”۔[4]

“جو شخص کربلا میں امام حسین   ؑ کی زیارت کرے اس شخص کے مانند ہے کہ جس نے فراز عرش پر خدا کی زیارت کی هو”!

امام حسین علیه السلام کے زائروں کی عظمت

ابو الحسن جمال الدین علی بن عبد العزیز موصولی حلّی بزرگ ادیب، اہل بیت   ؑ کے مداح، ممتاز شاعر اور ایک فاضل انسان تھے کہ جو شہر حلہ میں زندگی بسر کیا کرتے تھے، ان کا انتقال ۷۵۰ ھ میں شہر حلہ میں هوا اور آپ کا مزار شہر حلہ کی مشهور و معروف زیارتگاہ ہے۔

موصوف (جیسا کہ قاضی نور الله شوشتری نے کتاب “المجالس” میں اور زنوزی نے کتاب “ریاض الجنة” میں بیان کیا ہے) ناصبی ماں باپ سے پیدا هوئے، ان کی والدہ نے نذر کی تھی کہ اگر ان کے یہاں  لڑکا پیدا هوا تو اس کو (حضرت امام) حسین (  ؑ) کے زائروں کی ڈاکا زنی اور غارت گری کے لئے تربیت کروں گی، تاکہ زائروں کو غارت کرے اور ان کو قتل کردے!

جب موصوف کی پیدائش ہوئی اور عنفوان شباب میں قدم رکھا تو اپنے نذر پوری کرنے کے لئے زائروں کے راستہ پر بھیجا اور وہ جب کربلا کے نزدیک مسیب کے علاقے میں پھنچے ایک جگہ ان کو نیند آگئی اور خواب میں دیکھا کہ زائروں کا ایک قافلہ راستہ سے گزر رہا  ہے اور زائروں کے قافلے کی گرد و غبار اس کے چہرے پر آرھی ہے، اسی موقع پر انہوں  نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہوگئی ہے، حکم ہوا کہ اس کو دوزخ میں ڈال دو، لیکن اس پاک گرد و غبار کی وجہ سے آگ اس کے چہرے تک نہیں پھنچ رھی ہے، اسی موقع پر ان کی آنکھ کُھل گئی درحالیکہ اپنے بُری نیت سے گھبرائے ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے موصوف اہل بیت   ؑ کی ولایت کے شیدائی بن گئے اور ایک طولانی مدت تک کربلا میں مقیم اور حائر حضرت امام حسین   ؑ میں مقیم رہے اور اس وقت سے اہل بیت   ؑ کی مدح سرائی میں مشغول رہے، اور ایک نورانی رباعی کے ذریعہ اپنی مدح سرائی کا آغاز کیا:

اِٴذَا شِئْتَ النَّجٰاةَ فَزُرْ حُسَیناً

لِکَیْ تَلْقٰیٰ اِلا لہ قَرِیْرَ عَیْنِ

 فاِنَّ النارَ لَیْسَ تَمَسُّ جِسْمَاً عَلیہِ غُبارُ زوَّارِ الحسینِ.[5]

 سلیمان اعمش کا عجیب واقعہ

علامہ مجلسی ؒ نے امام حسین ؑکی کرامت و مہربانی کا ایک عجیب واقعہ بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے شیعہ علماء کی تالیفات میں دیکھا کہ سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ: میں کوفہ میں رہتا تھا میرا ایک پڑوسی تھا اور میں اس کے پاس آمد و رفت اور نشست و برخاست کیا کرتا تھا، ایک شب جمعہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہا: امام حسین   ؑ کی زیارت کے سلسلے میں تمہارا  کیا نظریہ ہے؟ اس نے کہا: بدعت اور شرعی قوانین کے خلاف ہے اور بدعت گمراہی  ہے اور جو شخص بھی گمراہی  اور ضلالت میں مبتلا ہو وہ دوزخی ہے!!

سلیمان نے کہا: حالانکہ میرا پورا وجود غصے سے بھر چکا تھا اس کے پاس سے اٹھا اور اپنے دل میں کہاکہ: سحر کے وقت اس کے پاس جاؤں گا اور حضرت امام حسین   ؑ کے فضائل و مناقب بیان کروں گا، اگر اپنی دشمنی اور جاہلانہ تعصب پر اصرار اور ہٹ دھرمی کی تو اس کو قتل کردوں گا۔

چنانچہ جب سحر کا وقت ہوا تو میں اس کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوا، اور اس کے گھر پر دق الباب کیا اور اس کا نام لے کر آواز دی، اچانک اس کی بیوی نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ رات کے پھلے حصہ میں حضرت امام حسین   ؑ کی زیارت کے لئے کربلا گیا ہے، چنانچہ میں بھی اس کے پیچھے  امام حسین   ؑ کی زیارت کے لئے روانہ ہوگیا۔

جب میں روضہ مقدس میں وارد ہوا تو میں نے اپنے اس پڑوسی کو دیکھا جو سجدے کے عالم میں خدا سے رو روکر مناجات اور توبہ کی درخواست کر رہا  ہے۔

ایک طولانی مدت کے بعد اس نے سجدے سے سر اٹھایا اور اس نے مجھے اپنے پاس کھڑا ہوا دیکھا، میں نے اس سے کہا: تم کل رات یہ کہہ رہے تھے کہ حضرت امام حسین   ؑ کی زیارت بدعت ہے اور بدعت گمراہی  ہے اور ہر گمراہ آتش جہنم  میں ہے، لیکن آج تم کیسے حضرت امام حسین   ؑ کے روضہ پر آگئے ہو اور زیارت کر رہے ہو؟

اس نے کہا: اے سلیمان! مجھے ملامت نہ کرو! میں پہلے اہل بیت   ؑ کی ولایت و امامت کا قائل نہیں تھا یہاں  تک کہ کل رات تک میں نے ایک خواب دیکھا جس کی وجہ سے میں حیرت و تعجب میں پڑ گیا اور خوف و وحشت میں مبتلا ہوگیا۔

میں نے اس سے کہاکہ: تم نے کیا خواب دیکھا ہے؟ اس نے کہا: ایک بلند مرتبہ اور با عظمت انسان کو دیکھا کہ جس کا قد درمیانی تھا نہ زیادہ بلند تھا اور نہ پست قد، اس کے جمال و ھیبت اور ارزش و کمال کی توصیف بیان کرنے سے عاجز ہوں، ان کے اردگرد بہت سے لوگ تھے اور تیزی کے ساتھ روانہ تھے ان کے آگے آگے ایک سوار تھا کہ جن کے سر پر ایک تاج تھا اس تاج کے چار رکن تھے اور ہر رکن پر ایک گوہر لگا ہوا تھا جس کی تینوں سمت چمک رہیں تھی۔

میں نے ان بزرگوار کے خادموں میں سے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ انہوں  نے کہا: یہ محمد مصطفی (ص) ہیں! میں نے سوال کیا: یہ دوسرے کون ہیں؟ انہوں  نے کہا؟ یہ علی مرتضی جانشین رسول الله ہیں! اس کے بعد میں نے اس نورانی فضا پر نظر ڈالی کہ اچانک ایک نور کا ناقہ دیکھا کہ جس پر نور کا کجاوہ تھا اور اس میں دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں اور وہ ناقہ آسمان و زمین کے درمیان پرواز کر رہا  تھا! میں نے کہا: یہ ناقہ کس کا ہے؟ انہوں  نے کہا: یہ جناب خدیجہ کبریٰ اور فاطمہ زہرا علیہما السلام ہیں، میں نے کہا: یہ جوان کون ہیں؟ انہوں  نے کہا: یہ حسین بن علی (  ؑ) ہیں، میں نے کہا: یہ گروہ کہاں جا رہا  ہے؟ ان سب نے کہا: یہ قافلہ مقتول جفا، شھید کربلا حسین بن علی مرتضیٰ کی زیارت کے لئے جا رہا  ہے۔

چنانچہ میں اس ناقے کی طرف گیا جس میں جناب فاطمہ زہرا تشریف رکھتی تھیں کہ اچانک میں نے ایک لکھا ہوا نامہ دیکھا کہ آسمان سے زمین کی طرف آرہا  ہے! میں نے سوال کیا یہ نامہ کیسا ہے؟ انہوں  نے کہا: یہ وہ نامہ ہے کہ شب جمعہ زیارت امام حسین   ؑ کرنے والوں کے لئے آتش جہنم  سے امان لکھی ہوئی ہے۔

میں نے اس امان نامہ کی درخواست کی، مجھ سے کہا گیا: مگر تم یہ نہیں کہتے کہ زیارت حسین بدعت ہے؟! یہ امان نامہ تم کو نہیں مل سکتا، مگر یہ کہ امام حسین (  ؑ) کی زیارت کرو اور ان کے فضل و شرف پر عقیدہ رکھو!

خوف و وحشت کے عالم میں خواب سے چونکا، اور اسی وقت اپنے مولا و آقا امام حسین   ؑ کی زیارت کا ارادہ کیا، اور اب خدا کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کر رہا  ہوں اور خدا کی قسم اے سلیمان! ان کی قبر سے جد ا نہیں ہوں گا یہاں  تک کہ میری روح میرے بدن سے پرواز کر جائے[6]!!

حاج علی بغدادی، مفاتیح الجنان[7]میں محدث قمی کی نقل کی بنا پر حضرت امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی ملاقات کے وقت امام   ؑ سے سوال کیا کہ کیا اعمش کا واقعہ صحیح ہے؟ تو امام زمانہ (عج) نے فرمایا: جی ہاں ، صحیح اور کامل ہے۔

—————————

[1] کامل الزیارات، ص۱۲۱؛ جامع الاخبار، ص۲۳، فصل نمبر ۱۱؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۳، باب۱، حدیث۸.

[2] کامل الزیارات، ص۱۴۵، باب۵۷، حدیث۷؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۲۰، باب۳، حدیث۹.

[3] کامل الزیارات، ص۱۹۳، باب۷۸، حدیث۲؛ کتاب المزار، ص۵۶، باب۲۶، حدیث۲؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۴، باب۱، حدیث۱۴.

[4] ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، ص۸۵؛ مستدرک الوسائل، ج۱۹، ص۲۵۰، باب۲۶، حدیث۱۱۹۴۸.

[5] “اگر کوئی روز قیامت کی نجات چاہتا ہے تو امام حسین   ؑ کی زیارت کرے، تاکہ خدا کی بارگاہ میں خوشنود حاضر ہو، بے شک جہنم  کی آگ اس جسم تک نہیں پھنچ سکتی کہ جس پر زائرین حسین (  ؑ) کی گرد و غبار ہو”۔ الغدیر، ج۶، ص۱۲.

[6] بحار الانوار، ج۴۵، ص۴۰۱، باب۵۰، حدیث۱۲؛ مستدر ک الوسائل، ج۱۰، ص۲۹۵، باب۴۲، حدیث۱۲۰۴۶؛ منتخب طریحی، ص۱۹۵.

[7] مفاتیح الجنان، ص ۸۰۱.

Leave a Reply