شہید ثالث، قضاوت سے شہادت تک

توقیر کھرل:

نور اللہ شوستری شہید ثالث ہیں ۔آپ سے پہلے دو شہید گزرے ہیں، شہید اول اور شہید ثانی۔ محمد ابن مکی شہید کوشہید اول  اور شیخ زین الدین شہید کو شہید ثانی کہا جاتا ہے۔ دمشق اور استنبول کے بعد یہ تیسری شہادت ہندوستان میں ہوئی۔ان تینوں شہدا کو جہانِ اسلام خصوصا جہان تشیع  میں خاص اہمیت حاصل ہے۔قاضی نور اللہ شہید شوستر میں پیدا ہوئے ، اور اسی نسبت سے وہ شوستری کہلائے ۔مشہد مقدس میں علمِ دین سیکھنے کے بعد ہندوستان تشریف لائے۔  اکبر بادشاہ  کے زمانے میں ہندوستان میں قاضی کے منصب پر فائز ہوئے، یہ منصب دور حاضر کے چیف جسٹس کا درجہ رکھتا  تھا۔

تصانیف

شہید ثالث کی متعدد تصانیف ہیں، انہوں نے بیسیوں عربی اور فارسی زبان میں رسالے بھی لکھے ۔ان کی تصانیف میں سے مجالس المومنین اور احقاق الحق چھپ چُکی ہیں ۔مجالس المومنین  کو  آپ کا شاندار شاہکار قرار دیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس کا عہدہ

قاضی نور اللہ کو فقہ جعفری سمیت  اہل سنت کے مذاہب اربعہ پر مکمل دسترس حاصل تھی،  اکبر بادشاہ  جوکہ لبرل قسم کا تھا، اس نے انہیں قاضی القضاہ مقرر کر دیا ۔انہوں  نے یہ منصب اس شرط پر   قبول کیا کہ وہ مذاہب اربعہ (شافعی ،حنفی ،حنبلی اور مالکی)میں سے کسی ایک فقہ کے پابند نہیں ہونگے۔ قاضی نے تمام فتاویٰ بغیر کسی تعصب کے  مذاہب اربعہ کے مطابق  دینے شروع کئے۔اکبر بادشاہ کی وفات کے بعد جہانگیر تختِ سلطنت پر بیٹھا، قاضی نور اللہ اپنے عہدے پر قائم رہے ،دربار میں سیاسی رقابت اور مذہبی عناد  خاموش ذہر کی مانند اپنا کام دکھا رہا تھا۔

شہادت اور مزار

قاضی نور اللہ شوستری کے  مخالفین سر گرم تھے۔  انہوں نے ایک سازش کے  ساتھ قاضی نوراللہ شوشتری کو  اپنے جال میں پھنسایا، جس پر آپ کو  خار دار دُرے لگائے گئے حتیٰ کہ  آپ شہید ہوگئے، شہادت کے بعد آگرہ میں اسی جگہ آپ کا مزار بنایا گیا۔کہا جاتا ہے کہ شہادت کے بعد کئی دن تک آپ کی  لاش بے گوروکفن  پڑی رہی،یہانتک کہ ایک شخص کو  خواب میں جناب سیدہ فاطمہ س نے حکم دیا کہ میرے فرزند کو دفن کرو۔  جب یہ خواب متعدد افراد کو آیا تو دریا کے قریب سے لاشہ برآمد کرکے کفن و دفن کا انتظام کیا گیا ۔شہادت کے دو سو سال یا ڈیڑھ سو سال  بعد 1774میں قبر پر روضہ تعمیر ہوا اور باغ بھی لگایا گیا ۔ہندوستان کے بعض افسانوں میں اس رسم کا ذکر بھی ہے کہ لوگ ان  کےمزار پر ہندوستان بھر سے منت ماننے کے لیے سفر کرتے تھے اور اب بھی یہ عمل جاری ہے۔پروردگار شہید کے درجات بلند کرے۔ آمین

مآخد

شہید ثالث ،عزیز لکھنوی

رُود کوثر ،اکرام خاں

وکی پیڈیا

ریختہ

Leave a Reply