سید صفدر حسین نجفی

گروہ محقیقین:

پاکستان میں سید صفدر حسین نجفی (1932-1989ء) کسی تعارف  کے محتاج نہیں۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف مدارس اور حوزہ علمیہ نجف اشرف سے کسب فیض کیا۔ جامعہ المنتظر لاہور میں تدریسی فرائض انجام دئے۔ شیعہ قوم کو مفتی جعفر حسین اور ان کے بعد عارف حسین الحسینی کی قیادت پر متفق کرنے میں آپ کا کردار رہا۔ مولانا صفدر حسین نے دینی کتابوں کی تالیف اور ترجمہ کو قیادت پر ترجیح دیتے ہوئے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان میں امام خمینی کی مرجعیت کو متعارف کرایا اور ان کی جلاوطنی کے دوران انہیں پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔ آپ پاکستان کی بعض شیعہ مذہبی تنظیموں کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے مختلف کتابوں کی تالیف اور ترجمہ بھی کیا جن میں تفسیر نمونہ، پیامِ قرآن، منشورِ جاوید، سیرتِ آئمہ اور احسن المقال قابلِ ذکر ہیں۔ صفدر حسین نے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی بعض دینی مدرسے قائم کئے۔

ولادت اور نسب

صفدر حسین نجفی سنہ 1932ء میں پاکستان ضلع مظفر گڑھ کے علاقہ علی پور میں پیدا ہوئے۔[1] آپ کا شجرہ نسب سید جلال الدین سرخ پوش بخاری سے ملتا ہے، جو حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔[2]آپ کے والد سید غلام سرور اپنے شہر کے شیعہ علما میں شمار ہوتے تھے۔[3]

شریک حیات اور اولاد

سنہ 1953ء میں نجف میں ایک پاکستانی سادات گھرانے میں آپ نے شادی کی۔ آپ کی چار بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں جو اسلامی علوم سے منسلک ہیں۔[4]

وفات

3 دسمبر سنہ 1989ء کو 57 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور جامعہ المنتظر لاہور میں دفن ہوئے۔[5] آپ کی وفات پر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے تسلیت کے پیغام کے علاوہ [6] تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے ایک وفد بھی بھیجا گیا۔ [7] آپ کی نماز جنازہ سید محمد یارشاہ نجفی نے پڑھائی[حوالہ درکار] وفات کے بعد سے آپ کو محسن ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔[8]

وطن واپسی

سنہ 1956ء میں 23 یا 24 سال کی عمر میں آپ نجف اشرف سے پاکستان کے شہر لاہور واپس آئے[14] تو اس وقت اختر عباس نجفی موچی دروازہ، حسینیہ ہال میں جامعہ المنتظر کی بنیاد رکھ چکے تھے جہاں آپ نے مدرس کی حیثیت سے دینی خدمات شروع کیا۔[15] یہ مدرسہ بعد میں وسن پورہ منتقل ہوا جہاں پر آپ نے تدریس کے علاوہ نماز باجماعت کا بھی اہتمام کیا اور لوگوں کو گھر گھر جاکر نماز جماعت میں شرکت کی دعوت کی۔[16] کچھ عرصہ بعد علامہ اختر عباس نجفی کے نجف جانے پر سنہ 1966 ء کو آپ اس مدرسہ کے پرنسپل بن گئے اور مدرسہ کو وسن پورہ سے ماڈل ٹاؤن لاہور منتقل کیا جو آج کل پاکستان کی قدیمی ترین دینی درسگاہ سمجھی جاتی ہے۔[17]

اساتذہ

پاکستان کے مختلف مدارس میں آپ نے مختلف اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ آپ نے تفسیر انوار النجف کے مصنف حسین بخش جاڑا نجفی سے تفسیر کا درس پڑھا۔[18]جبکہ سید یار شاہ نقوی اور سید محمد باقر نقوی چکڑالوی المعروف علامہ باقر ہندی بھی آپ کے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔[19] سید صفدر حسین نجفی نے حوزہ علمیہ نجف میں محمد علی افغانی، اختر عباس نجفی، سید ابو القاسم رشتی، شیخ محمد تقی آل راضی نیز مراجع تقلید میں سے محسن الحکیم و سید ابوالقاسم خوئی کی شاگردی اختیار کیا۔[20]

شاگرد

آپ کے شاگردوں میں پاکستان کے بہت سارے علما شامل ہیں لیکن ان میں سے مندرجہ ذیل شخصیات قابل ذکر ہیں:[21]

بشیر حسین نجفی

سید عارف حسینی

حافظ سید ریاض حسین نجفی

مفسر قرآن اور اسوہ سکول سسٹم کے بانی شیخ محسن نجفی

سید ضیاء الدین رضوی

اجازت نامہ

سید صفدر حسین نجفی نے آقا بزرگ تہرانی سے نقل حدیث کی اجازت حاصل کی[22] اور اسی طرح امام خمینی سے وجوہات شرعیہ صَرف کرنے کی اجازت بھی حاصل کی۔[23]

سید صفدر حسین نجفی نے تصنیف و تالیف کے علاوہ بعض دینی کتابوں کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا جن میں سے تفسیر نمونہ، پیام قرآن اور منشور جاوید وغیرہ قابل ذکر ہیں[24]

سیاسی سرگرمیاں

صفدر حسین نجفی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اور تحریک جعفریہ کے بانی علما میں سے تھے[25] جبکہ امامیہ آرگنائزیشن، وفاق علما شیعہ پاکستان اور دیگر قومی تنظیموں کو محسن ملت کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔[26] انہوں نے قائدین ملت جعفریہ مفتی جعفرحسین، شہید عارف حسین الحسینی اور ساجد علی نقوی کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔[27]

مفتی جعفر حسین کے دور قیادت میں آپ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے مرکزی نائب صدر رہے۔[28]

تحریک جعفریہ کا سیاسی امور میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں تجاویز پر مشتمل کتابچہ «تحریک کا سیاسی سفر» کے تدوین میں آپ کا کلیدی کردار رہا[29] اور تبدیلی کا منشور بھی آپ نے پیش کیا جسے «ہمارا راستہ» کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[30]

وفاق العلما الشیعہ پاکستان کی بنیاد رکھی ملک بھر میں صوبہ ڈویژن ضلع اور تحصیل تک یونٹ قائم کیے مرکزی کابینہ تشکیل دی گی۔[31]

امام خمینی کی مرجعیت کی ترویج

سید صفدر حسین نجفی کا شمار ان علما میں ہوتا ہے جنہوں نے امام خمینی کو پاکستان میں ایسے دور میں معرفی کیا جب امام خمینی کو پاکستان میں کوئی نہیں جانتا تھا۔[32]یہاں تک کہ اپنے گھر کو بیچ دیا اور فرانس جاکر گھر کی قیمت امام خمینی کے حوالے کردیا۔[33] سنہ 1970ء میں محسن الحکیم کی وفات کے بعدسید صفدر حسین نجفی نے بعض دیگر علماء کے ساتھ ملکر امام خمینی کی مرجعیت کا اعلان کرتے ہوئے فوراً امام خمینی کی توضیح المسائل کا اردو ترجمہ کر کے شائع کروایا۔[34] انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آپ امام خمینی کی خدمت میں پہنچے اور پاکستان میں شیعہ فقہ کے درس خارج دینے کے لیے ایک مجتہد کا مطالبہ کرتے ہوئے وہاں پر موجود آیت اللہ نوری کو بھیجنے کی درخواست کی اور انہیں پاکستان لانے میں کامیاب ہوگئے۔[35] ان کے بعد پھر حسن طاہری خرم آبادی کو بھی اسی سلسلے میں پاکستان لے گئے لیکن بعض سیاسی مشکلات کے پیش نظر وہ پاکستان میں نہیں رہ سکے۔[36]

سماجی خدمات

دینی مدارس کا قیام

سید صفدر حسین نجفی کے تاسیس کردہ دینی مدرسوں کی فہرست

سید صفدر حسین نجفی کی کاوشوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کا قیام عمل وجود میں آیا جن میں جامعہ علمیہ (کراچی)، جامعہ مدینۃالعلم (بارہ کہو، اسلام آباد)، مدرسہ المنتظر قم ایران، اور مدرسہ ولی العصر سکردو شامل ہیں۔[37]

دیگر خدمات

امامیہ پبلیکیشنز کے ادارے کی تشکیل[38]

ماہنامہ المنتظر کی اشاعت[39]

علوم قرآنیات بالخصوص “ تفسیر نمونہ “ کی اشاعت اور ترویج کے لیے ادارہ “ مصباح القران

حوالہ جات

ترجمان وحی ویب سائٹ، تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمزتاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019

 ترجمان وحی ویب سائٹ، تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمزتاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019ء

 سید صفدر حسین نجفی مؤسسہ فرہنگی ترجمان وحی تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 آیت اللہ خامنہ‌ای کی طرف سے سید صفدر حسین نجفی کی وفات پر تسلیت کا پیغام آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای کی آفیشل ویب سائٹ تاریخ درج، 30/9/1368ہجری شمسی تاریخ اخذ، 5 مئی 2019

 آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج 4 دسمبر 1989، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 آشنایی با روحانی پاکستانی کہ پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزہای سخت بود سایت آئندہ روشن تاریخ درج، ۱۸ آذر ۱۳۹۷ ہجری شمسی تاریخ اخذ، 10 مئی 2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019

 مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019

 علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019

 سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019

 صحیفہ امام خمینی، 1279ھ – 1368 ہجری شمسی، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی ج 19 ص 142

 آشنایی با روحانی پاکستانی کہ پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزہای سخت بود حوزه نیوز تاریخ درج، 21 اردیبہشت 1398شمسی، تاریخ اخذ، 11 مئی 2019

 مُحسن مِلّت۔علّامہ سیّدصفدرحُسین نجفی طاہرعبداللہ جعفریہ پریس تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ 11 مئی 2019

Leave a Reply