مولانا سید اظہر حسن زیدی اعلی اللہ مقامہ

تحریر : اعجاز علی مرزا
خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی ۹ دسمبر1986کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
مدتوں روشن رہیں گے تیری یادوں کے چراغ
خطیب آل محمد قبلہ مولانا سید اظہر حسن زیدی کا تعلق یو پی کے ضلع بجنور کے رسول پور نامی ایک گاؤں میں آباد معزز زمیندار سادات گھرانے سے تھا۔ دریائے گنگا کے کنارے آباد اس گاؤں کو شاہان اودھ کے دور میں آپ کے اجداد نے آباد کیا تھا ۔ آپ کے والد محترم کا اسم گرامی سید ابن حسن زیدی تھا ۔ آپ 12 دسمبر 1912 کو اس عالم فانی میں تشریف لائے ۔ کچھ بڑے ہوۓ تو دینی تعلیم کے حصول کے لئے ہندوستان کے نامور عالم دین علامہ سید سبط نبی علیہ الرحمتہ کے حضور زانوۓ تلمذ طے کیا ۔ایک طویل عرصہ تک نوگانواں سادات میں موجود ان کے مدرسہ میں زیر تعلیم رہے اور علاوہ دیگر دینی علوم کے اصول فقہ اور علم کلام پر عبور حاصل کیا ۔ اس وقت کے رواج کے مطابق آپ الہ آباد یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کے تمام اورینٹیل امتحانات میں شریک ہوئے اور اعلی درجہ میں کامیابی حاصل کی ۔
آپ نے کمال کا حافظہ پایا تھا ۔ انیس و دبیر ، غالب ، میر تقی میر اور دیگر نامور شعرا کے بہت سارے اشعار آپ کو بچپن ہی میں ازبر ہو گئے تھے ۔ دوران تعلیم بھی جو سبق ایک دفعہ سن یا پڑھ لیتے زبانی یاد ہو جاتا تھا ۔ عربی اور فارسی زبان پر کامل عبور حاصل تھا ۔ دینی علوم پر مکمل دسترس حاصل ہونے کے باوجود انتہائی عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کیا کرتے تھے ۔ کبھی علمی محافل و مجالس میں اظہار خیال فرماتے تو علماء کرام آپ کے تبحر علمی اور قادر الکلامی پر عش عش کر اٹھتے ۔
قبلہ زیدی صاحب انتہائی نفیس شخصیت کے حامل تھے ۔ مزاج میں کمال کا تحمل اور بردباری تھی ۔ لاہور میں ہمارا گھر ان کے گھر کے بلکل سامنے ہے ۔ ہمیں بچپن سےہی ان کے پاس حاضری کا شرف حاصل رہا لیکن انہیں کبھی غصہ کے عالم میں نہیں دیکھا ۔ قبلہ زیدی صاحب لاولد تھے مگر بچوں پر بے انتہا شفقت فرمایا کرتے تھے ۔ بچپن میں ہم سب بھائی قبلہ کے ہاں جا کر خوب کھیلا کودا کرتے تھے ، ہلا گلا بھی رہتا اور شور شرابا بھی ہوتا ۔ اکثر اوقات ان کے پاس مہمان بھی آئے ہوتے تھے اور کبھی کبھار اگر کوئی مہمان ہمیں روکنے ٹوکنے کی کوشش کرتا تو قبلہ اسے فوراً منع کر دیتے کہ بچوں کو نہ روکو ، یونہی کھیلنے دو۔
شگفتہ مزاج تھے ، گفتگو میں چاشنی تھی ۔ نجی محافل ہوں یا عوامی اجتماعات آپ کا انداز بیان ایک سا ہی ہوتا تھا ۔ انتہائی کریمانہ اخلاق کے حامل تھے ۔ دسترخوان وسیع تھا ۔ تقریباً ہر روز ہی مہمان موجود ہوتے تھے اور آپ ان کی خاطرمدارت میں کسی قسم کی کمی روا نہ رکھتے تھے ۔ قبلہ زیدی صاحب نے شاہانہ مزاج پایا تھا اور حقیقتاً شاہ خرچ تھے ۔ اکثر و بیشتر ضرورت مند دروازے پر موجود ہوتے تھے اور اپنے اجداد کی طرح سائل کو خالی ہاتھ لوٹانا آپ کا شیوہ نہ تھا ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ انتہائی دانا اور سمجھدار خاتون تھیں ، وہ کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیا کرتی تھیں ۔ ان کی یہ حکمت عملی قبلہ صاحب کی زندگی کے آخری سالوں میں ، جب کہ مجالس کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا تھا اور عقیدت مندوں کی آمد و رفت بھی بہت کم رہ گئ تھی ، بہت کام آئی اور نظام زندگی باعزت طریقے سے رواں دواں رہا ۔
ذاکر اور خطیب حضرات کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شاید یہ لوگ شریعت کے کچھ خاص پابند نہیں ہوتے اور واجبات کی بجاآوری میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ۔ اس تاثر کے سراسر برعکس ہم نے ذاتی زندگی میں قبلہ زیدی صاحب کو ہمیشہ پابند شریعت پایا ۔ نا صرف واجبات بلکہ مستحب عبادات میں بھی مصروف رہا کرتے تھے ۔ قران مجید اور معصومین ع سے منقول دعاؤں کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے ۔ گھر میں ایک کمرہ امام بارگاہ کے لئے مخصوص تھا اور ہر شب جمعہ محفل حدیث کسا کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ جس میں اردو ترجمہ کے ساتھ حدیث کساپڑھتے اور آخر میں حاضرین محفل کے ساتھ مل کر بڑی عاجزی و انکساری سے دعا مانگا کرتے تھے ۔
قبلہ زیدی صاحب اپنے گھر میں ہر سال چار مذہبی پروگرام بڑے اہتمام سے منعقد کیا کرتے تھے ۔ 3 صفر کو اپنے جد امجد جناب زید شہید رح کی یاد میں مجلس عزاء ۔ 22 رجب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ، 15 رمضان المبارک کو امام حسن علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے دعوت افطار اور 9 ذوالحجہ کو جناب مسلم بن عقیل رح کے یوم شہادت کے موقعہ پر مجلس عزاء ۔ کہتے ہیں کہ لاہور میں حضرت زید شہید رح اور حضرت مسلم بن عقیل رح کے ایام شہادت پر مجالس کا سلسلہ سب سے پہلے قبلہ زیدی صاحب نے ہی شروع کیا تھا اس سے پہلے یہاں اس کا رواج نہ تھا ۔
9 ذوالحجہ کی مجلس سے ایک طویل مدت تک علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم خطاب فرماتے رہے بعد ازاں مولانا سید ابوالحسن نقوی (سابق خطیب مسجد صاحب الزمان کرشن نگر لاہور ) نے ایک عرصہ تک یہ ذمہ داری نبھائی ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس گھر میں مجالس و محافل کے اس سلسلہ کو قبلہ کے قریبی عزیز سید ضیغم علی شاہ نے نہ صرف جاری رکھا ہوا ہے بلکہ اسے مزید فروغ دیا ہے۔
خطیب آل محمد مولانا سید اظہر حسن زیدی زندگی بھر بزرگ شیعہ علماء اور عمائدین ملت کے ہمراہ ملت جعفریہ پاکستان کے لیئے خدمات سرانجام دینے میں مصروف عمل رہے ۔قائد اعظم رح کے قریبی ساتھی راجہ صاحب محمود آباد سے قبلہ زیدی صاحب کے قریبی مراسم تھے ۔ تحریک پاکستان کے دوران راجہ صاحب کے ساتھ مل کر آپ نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا اور اس سلسلے میں جلسے جلوسوں سے خطاب کرتے ہوئے عملی جدوجہد میں شریک رہے ۔
پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریک ختم نبوت میں بھی آپ نے بڑی سرگرمی سے حصہ لیا اور شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی کی – جب مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری نے تحریک ختم نبوت کے امیر کا عہدہ سنبھالا تو علامہ حافظ کفایت حسین تحریک ختم نبوت کے مرکزی نائب صدر اور قبلہ زیدی صآحب و سید مظفر علی شمسی تحریک کے مرکزی رکن کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ اس سلسلے میں آپ نے اہل سنت علماء کے شانہ بشانہ بہت سے مقامات پر بڑے عظیم الشان اجتماعات سے خطاب کیا۔ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے چنیوٹ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں آپ نے ایک یادگار تقریر کی تھی جسے اہل سنت علماء نے بھی بے حد سراہا۔
آپ قیام پاکستان سے کچھ سال قبل ہی مستقل طور پر لاہور میں سکونت اختیار کر چکے تھے ۔ اس وقت کی نامور اہل سنت شخصیات مثلآ مولانا ظفر علی خان ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، ممتاز شاعر اور صحافی آغا شورش کاشمیری سمیت بہت سے معاصر اہل سنت علماء و اکابرین سے آپ کے بہت اچھے اور دوستانہ مراسم تھے ۔
1967 میں صدر ایوب کے دور حکومت میں رویئت ہلال کے مسئلہ پر اختلاف ہوا تو آپ نے سرکاری دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومتی مؤقف کے مخالف اہل سنت علماء کرام کی حمایت کا اعلان کر دیا ۔ جنوری 1967 ء کی ایک یخ بستہ صبح تھی جب پولیس اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے قبلہ زیدی صاحب کے گھر پر چھاپہ مارا اور آپ کو گرفتار کر کے لے گئے۔ اس کیس میں قبلہ زیدی صاحب کے ساتھ مولانا مودودی سمیت بہت سے دیگر ممتاز علماء کرام کو بھی گرفتار کیا گیا ۔
اس قضیہ کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ صدر جنرل ایوب خان نے اس توہم کے تحت کہ جمعہ کے دن عید منائی جائے تو ایک دن میں دو خطبے (خطبہ جمعہ اور خطبہ عید) حکمرانوں کے زوال کا سبب بنتے ہیں ، طلوع ہلال کے بغیر ہی جمعرات کو عید الفطر منانے کا اعلان کر دیا تھا ۔ علما ء کرام نے یہ سرکاری اعلان مسترد کر دیا اور اسلامی اصول کے مطابق قرار دیا کہ شوال کا چاند نظر آئے بنا 29 روزوں کے بعد عید پمنانا جائز نہیں ۔ ردعمل میں حکومت نے ان تمام علماء کرام کو گرفتار کر کے مختلف جگہوں پر نظربند کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ گرفتاری کے بعد نظربندی کے لیے کسی نامعلوم مقام پر منتقلی کے دوران پولیس کی جس گاڑی میں آپ سوار تھے اسکا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ جس میں آپ بری طرح مجروح ہوۓ اور ایک عرصہ تک صاحب فراش رہے ۔ اس حادثے میں آپ کی ایک ٹانگ کو کافی نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں آپ کو زندگی بھر دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔
قبلہ زیدی صاحب نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ لاھور میں گذارا۔ یہاں قیام کے دوران آپ نے بہت متحرک زندگی گذاری ۔ اندرون و بیرون ملک مجالس عزاء کی مصروفیات کے باوجود شیعہ قومیات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ۔ آپ علماء ، خطبا اور ذاکرین سمیت تمام اہل منبر اور اہل مدرسہ میں یکساں طور پر مقبول تھے ۔ آپ کو افراد قوم اور رہبران ملت کا بھر پور اعتماد حاصل تھا اور آپ اس اعتماد پر پورا اترتے ہوئے عمر بھر مذہب و ملت کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہے ۔

قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت میں اہل تشیع کے مذہبی حقوق کی حفاظت کی خاطر ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی جہاں پوری قوم مل کر اجتماعی طور پر مذہب و ملت کے لئے کام کر سکے ۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کی خاطر لاھور میں ادارہ تحفظ حقوق شیعہ کے نام سے ایک ادارہ تشکیل پایا جس نے ایک طویل عرصہ تک مکتب تشیع کی بھرپور خدمت کی ۔ قبلہ زیدی صاحب ابتداء سے ہی علامہ حافظ کفایت حسین ، علامہ مفتی جعفر حسین اور سید مظفر علی شمسی کے ہمراہ اس ادارے میں اہم اور فعال کردار ادا کرتے رہے ۔ بعد ازاں جب قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مجتہد کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو آپ تحریک کی مرکزی سپریم کونسل کے رکن مقرر کیے گئے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے ۔
قبلہ زیدی صاحب انتہائی منکسرالمزاج اور ملنسار طبیعت کے حامل تھے ۔ آپ کے دولتکدے پر خاص عوام کا ہجوم رہتا تھا ۔ جہاں بہت سے معروف عالم ، خطیب ، شعرا اور ادیب حضرات اس بحر علم و حکمت سے فیض یاب ہونے کے لئے حاضر ہوا کرتے وہاں ہم جیسے کئی مبتدی اور عامی بھی قبلہ زیدی صاحب سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کے متمنی رہتے تھے ۔ آپ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ ہر خاص و عام آپ کے علم سے بلا تفریق فیض پاتا تھا ۔
آپ سےکچھ پوچھا جاتا تو انتہائی سادہ ، شگفتہ اور عام فہم اندازا میں جواب دے کر بات سمجھا دیا کرتے تھے ۔ غالبآ 1971 ء کی پاک بھارت جنگ کے دور کی بات ہےکسی نے پوچھا قبلہ بتایئے تقیہ کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ” بلیک آؤٹ ” پوچھنے والے نے حیرانگی سے کہا حضور میں سمجھا نہیں ۔ فرمایا معلوم ہے کہ بلیک آؤٹ کیا ہوتا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں ، دشمن کے خطرے کے پیش نظر گھروں کی کھڑکیوں ، روشن دانوں وغیرہ پر سیاہ کاغذ لگا دیئے جاتے ہیں تاکہ اندر کی روشنی باہر نہ جا پایۓ اور دشمن روشن گھروں کو نشانہ نہ بنا سکے ۔
فرمایا یہی تو تقیہ ہے ۔ دل کے اندر شمع ایمان روشن رہتی ہے اور باہر تقیہ سے اندھیرا کر دیا جاتا ہے تاکہ دشمن شمع ایمان کو گل نہ کر سکے۔
غالباٌ ۱۹۸۵کے ماہ ذوالحجہ کی بات ہے ، دارالتبلیغ الاسلامی لاہور کے یوم تاسیس کے حوالے سے ایک تقریب کے سلسلے میں ہمارے گھر میں کچھ دوست اکھٹے ہوئے تھے ۔ دوستوں کی خواہش پر راقم الحروف اعجاز مرزا ، برادرم گل محمد مرزا اور برادر عزیز سید اقبال مظہر نقوی قبلہ زیدی صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور قبلہ سے اس پروگرام سے خطاب کرنے کی درخواست کی ۔ آپ فورا تیار ہوگئے اور ہمارے ساتھ پروگرام میں شریک ہونے چلے آئے ۔
دوران خطاب فضائل محمد و آل محمد ص بیان کرتے ہوئے آخر میں ایک خوبصورت جملہ قبلہ نے ہمارے لیئے بھی ارشاد فرمایا اور اس دلکش انداز میں ہمیں دعا سے نوازا کہ تمام شرکاء تقریب عش عش کر اٹھے ۔آپ نے فرمایا :
“ یہی ایام تھے کہ آل محمد ص کے اعجاز سے اک نیا گل کھلا اور اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی ، خدا اس کا اقبال بلند کرے ۔”
خطیب آل محمد مولانا سید اظہر حسن زیدی ایک بے مثل و بے مثال خطیب تھے ۔ فن خطابت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ اب میری کیا بساط کہ اقلیم خطابت کے اس بے تاج بادشاہ کے ہنر خطابت کے بارے میں کچھ کہہ سکوں ۔ وہ شہنشاہ خطابت کہ جس کی زبان معجز بیان سے نکلی ہوئی باتیں لوگوں کے دل و دماغ پر نقش ہو کے رہ گئیں ۔
وہ لازوال خطیب کہ جس کے حضور الفاظ قطار اندر قطار محو انتظار رہا کرتے کہ قبلہ گاہی اپنی سحر آفریں زبان سے ادا کر کے انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید کر دیں ۔ آپ کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان سے گویا ہوتے اور مشکل ترین مضامین انتہائی سادہ اور عام فہم الفاظ میں بیان کر دیتے ۔
انتہائی عمیق باتوں کو سادگی اور بےساختگی سے بیان کر دینا آپ پر ختم تھا ۔تاریخ آدم و عالم پر مکمل گرفت تھی ۔ محمد و آل محمد علیہم السلام کے فضائل و مناقب بیان کیا کرتے تو سامعین وجد میں آجاتے ۔ مختصر لیکن انتہائی پرتاثیر مصائب پڑھا کرتے تھے ۔ ایک ہی جملے میں ہزاروں کا مجمع منقلب ہو جاتا ۔ لوگ بلا تخصیص مسلک و مکتب آپ کی مجالس میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ امیر و غریب سبھی کے ہاں پڑھا کرتے تھے ۔ نذرانہ نہ تو کبھی طے کیا اور نہ ہی اس کا تقاضہ کیا ۔ کسی نے اپنی مرضی سے کچھ خدمت کر دی تو ٹھیک ، نہ کی تو بھی اس سے کچھ گلہ نہ کیا ۔ کہیں بھی آپ کی مجلس کا اعلان ہوتا تو لوگ جوق در جوق شریک ہوتے ۔ آپ کا طرز خطابت سب سے الگ اور سب سے جدا تھا ۔
آپ اس طرز خطابت کے بانی بھی تھے اور خاتم بھی ۔ یو پی کی مردم خیز سرزمین سے طلوع ہونے والے اس خورشید نور افشاں کی روشنی چہار سو پھیلی اور ایک دنیا اس کی ضوافشانی سےفیض یاب ہوئی ۔ بہت سے لوگوں نے آپ کے انداز خطابت کو نقل کی کوشش بھی کی مگر بے سود۔
این سعادت بزور بازو نیست ، تا نہ بخشد خداۓ بخشندہ
مرزا نوشہ اور زیدی صاحب کا موازنہ کرتے ہوۓ کسی اہل فن نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر زیدی شاعر ہوتے تو غالب اور غالب خطیب ہوتےتو زیدی ہوتے ۔ آپ کے ہمعصر علماء آپ کا بے حد احترام کرتے تھے اور آپ کے علم وفضل اور مقام و مرتبہ کے معترف تھے ۔ قبلہ زیدی صاحب کو فلک خطابت کا نیئر درخشاں قرار دیتے ہوئے علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ ایک جگہ ان کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ خطیب کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے ، قدرت کی طرف سے ان اوصاف کا انہیں وافر حصہ ملا ہے ۔ متوازن لہجہ ، بیان میں ٹھہراؤ ، متوازن آواز ، ادب کی شگفتگی، زبان کی پاکیزگی ان کی خطابت کا خاص جوہر ہے ۔
قبلہ زیدی صاحب کی کچھ مجالس کو تحریری شکل میں محترم خضر عباس سید نے خطیب آل محمد کے نام سے مرتب کر کے کئی حصوں میں شائع کیا ۔ یہ بلا شبہ ایک بہت عظیم خدمت تھی جس سے بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی قبلہ زیدی صاحب سے کی حکمت آمیز باتوں سے فیض یاب ہونے کا موقعہ ملتا رہے گا ۔ بعدازاں ایک مجموعہ تقاریر محترم صفدر حسین ڈوگر نے بھی مرتب کیا جسےمجالس زیدی کے نام سے شائع کیا گیا۔
زندگی کے آخری سالوں میں آپ ایک عرصہ تک صاحب فراش رہے۔ کمزور جسمانی صحت اور بہت سارے طبی عوارض کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ آپ کی قوت سماعت کم ہوتے ہوتے بلکل ختم ہو کے رہ گئی۔ آخر نوبت با اینجا رسید کہ لوگ لکھ کر آپ سے بات کیا کرتے تھے ۔ اس دور میں قبلہ زیدی صاحب خود کو بہت تنہا محسوس کیا کرتے تھے ۔ کہاں وہ دور کہ آپ ہر وقت لوگوں کے ہجوم میں گھرے رہتے تھے اور کجا یہ عالم کہ کسی سے بات کرنے کو بھی ترستے تھے ۔ زیادہ تر وقت یاد الہی میں گزرتا ۔ موت کو کثرت سے یاد کیا کرتے اور بعض اوقات قوم کی بے اعتنائی پر دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کرتے کہ اندھیرے میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔
ان ایام میں گنتی کے چند مخلصین کے سوا آپ کے احباب کی اکثریت آپ سے کنارہ کش ہو چکی تھی ۔ دنیا چڑھتے سورج کو کیسے پوجتی ہے اور آفتاب سر کوہ سے کیسے کنارہ کش ہو جاتی ہے ، قبلہ زیدی صاحب کے حوالے سے انسانی رویوں کی یہ دونوں انتہایں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں ۔ وہ تمام احباب جو صبح شام آپ کے پاس پائے جاتے تھے ، ان کی اکثریت اس گھر کا راستہ بھول چکی تھی اور قبلہ زیدی صاحب اپنی بیٹھک میں تنہا بیٹھے زبان حال سے کہہ رہے ہوتے تھے کہ
کہاں گئےمری مصروف ساعتوں کے رفیق
صدائیں دیتی ہیں اب ان کو فرصتیں میری
دسمبر 1986 کا ایک سرد اور اداس دن تھا کہ بالآخر وہ وقت بھی آ پہنچا کہ گنگا کے کنارے پر آباد گاؤں رسول پور سے طلوع ہونے والا یہ آفتاب خطابت راوی کنارے سرزمین لاھور میں غروب ہو گیا ۔ آپ کی آخری آرامگاہ کربلا گامے شاہ لاھور میں ہے جہاں آپ اپنے عظیم دوستوں علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم اورعلامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کے جوار میں آسودہ خاک ہیں ۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

بشکریہ:۔ ہفت روزہ رضا کار

Leave a Reply