الحاج قاری محمود الحسن

  ترتیب و تدوین: سید انجم رضا :
امامیه قرات کالج کے بانی، استادالقراء الحاج قاری محمود الحسن ۹ دسمبر۲۰۰۱ کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔  ستر اور اسی کی دہائی میں موچی دروازہ لاہور میں مقیم ایک فقیر منش مگر بے انتہا متحرک شخصیت ملی و قومی سرگرمیوں میں مصروف عمل نظر آنا شروع ہوئے ، یہ دیندار اور متدین شخصیت جو کہ امامیہ قرات کالج کے روح رواں تھے امامیه قرات کالج کے بانی، استادالقراء الحاج قاری محمود الحسن تھے۔
امامیه قرات کالج کے بانی، استادالقراء الحاج قاری محمود الحسن اپنی ذات میں ایک انجمن تھے،زندہ دل و خوش مزاج، شگفتہ و دلفریب لہجے سے بھری گفتگو، ہمہ وقت ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کی دست رسی کے لئے تیار، علما و زعما کی محفلوں کی رونق، حفاظ و قرا کی بزم کے سرخیل تھے
قاری محمود الحسن ایک ایسے درویش انسان تھے، جنہوں نے مسلک حقہ جعفریہ اور قومیات کےلئے دن رات بے لوث ہوکر خدمات سرانجام دیں، مگر اپنا روزگار محکمہ اوقاف کی ملازمت سے برقرار رکھا، آپ ایک غیور اور حمیت رکھنے والے ملی کارکن تھے۔
قاری محمودالحسن نے کیونکہ نجف اشرف میں قیام کے دوران اما م خمینی رح سے براہِ راست کسبِ فیض کیا تھا، اس لئے آپ ابتدائے انقلاب اسلامی سے ہی انقلاب اسللامی اور حامی کے حامیوں اور جاں نثاروں کے ہراول دستے میں تھے۔
قاری محمود الحسن مرحوم کے حالات ِ زندگی کے بارے میں ان کے فرزند عزیزم علی اظفر ہاشمی متعلم حوزہ علمیہ قم بتاتے ہیں کہ
قاری محمود الحسن نے ہوشیار پور ضلع جالندھر کے ایک متدین و دیندار گھرانہ میں آنکھ کھولی، 1947میں تقسیم ہند کے وقت آپ کے خانوادہ جس میں آپ کے والد جناب محمد طفیل ، و دیگر اہل خانہ شامل تھے ہجرت کرکے ضلع ساہیوال (منٹگمری) میں رہے، کیونکہ آپ کو آبائی زمینوں کے کلیم کے بدلہ میں ملتان میں اور فیصل آباد اور لاہور میں رقبے الاٹ ہوئے،۔
آپ کی زندگی کے ابتدائی ایام اپنی نیک منش والدہ اور والد کے زیر سایہ گزرے آپ نے انہی سے اھل بیت (ع) کی سیرت عملی کے وہ راز سیکھے جو انسان کے کمال کی جانب سفر کو آسان بنا دیتے ہیں

آپ بچپن سے ہی ضعیف اور کمزور افراد کے حامی و ہمدرد رہے جو آپ کی ابتدائی زندگی کے مطالعہ سے روشن ہیں
اسی طرح احکام دین کو اپنی زندگی پر لاگو کرنا، تربیت فردی سے لے کر تربیت اجتماعی تک آپ تا آخر عمر سعی و تلاش کرتے رہے
پاکستان آنے کے بعد آپ کے خانوادے کا ابتدائی مسکن ملتان تھا، جہاں سے قاری محمود الحسن نے میٹرک کیا۔
ساٹھ کی دہائی میں آپ کا خاندان مبارک حویلی موچی دروازہ لاہور میں شفٹ ہوگیا، یہاں سے قاری صاحب نے ایف اے ، بی اے اور منشی فاضل امتیازی مدارج سے کیا، اور موچی دروازہ میں شیعہ قرا اور حُفاظ کے لئے امامیہ قرات کالج قائم کیا، اس کالج نے نامور قرا اور حُفاظ پیدا کئے اسی دوران آپ ستر کی دہائی میں نجف اشرف تشریف لے گئے،اس وقت بزرگ مراجع کرام سے ملے،
امام خمینی رضوان اللہ علیہ سے ملاقات نے قاری محمودالحسن کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کردی، آپ نجف اشرف میں امام خمینی رض سے مزید کسبِ فیض کرنے کے متمنی تھے، مگر امام خمینی رض نے فرمایا کہ آپ پاکستان میں زیادہ اہم کام سرانجام دے رہے ہیں اور واپس جاکر انہی امور کو مزید ویسع پیامنے پہ سر انجام دےویں۔نجف اشرف سے نوجوان قاری محمود الحسن ہاشمی ایک نئے ولولے اور توانائیوں کے ساتھ پاکستان واپس لوٹے
آپ کے ایک قریبی ساتھی آپکی زندگی کے ابتدائی ایام کو کچھ اس طرح سے روایت کرتے ہیں کہ”قاری قاری محمود الحسن اعلی اللہ مقامہ کی جاذبہ شخصیت کا ایک روشن پہلو یہ تھا کہ وہ قرب الھی کے ہمیشہ متلاشی رہے وہ چاہتے تھے کہ احکام الہی کو من وعن اپنی زندگی میں حاکمیت عطا کریں اور اجتماعی طور پر بھی اسے اجراءکریں اسی سلسلہ میں ہم دوستوں سے ۵ وقت نماز کی اداہئگی کا عہد لینا اور اول وقت صبح کی نماز میں ایک دوسرے کو جگانے کے لیے نت نئے طریقے رائج کرنا ان ہی کا طرہ امتیاز تھا جسکی برکات و فیوض اور وہ الہی نور آج بھی ہم محسوس کر رہے ہیں جو انکے بابرکت وجود اور تدبیر سے ہمیں نصیب ہوا”

قاری محمود الحسن ابتدائے جوانی سے ہی علما کے پر فیوض و با برکت دسترخوان علم و معرفت سے بہرہ مند ہوتے رہے آپ کی شخصیت سازی میں عالم باعمل عارف زماں حضرت حافظ کفایت حسین، حضرت علامہ سیدحسن موسوی، علامہ سیدصفدر حسین نجفی جیسی پاکیزہ شخصیات کا اثر رہا آپ انہی افراد کے زیر سایہ رہے اور شہید عارف الحسین الحسینی ،شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے شانہ بشانہ مختلف سماجی و مذہبی اور دینی کاموں کا آغاز کیا جس میں مختلف ملی و قوی اداروں کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں اوج بخشنے میں پیش پیش رہے
ان اداروں میں
ادارہ امامیہ قرأت کالج
ادارہ امامیہ پبلیکیشنز

تحریک جعفریہ
جامعہ اہل بیت اسلام آباد
جامعتہ المنتظرلاہور
جعفریہ ویلفیرفنڈ
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان
امامیہ آرگنائزیشن پاکستان
کاروان حج حیدری
اور اسی طرح دیگر بیشمار قومی و سماجی ادارے شامل ہیں جو افراد آپکے ساتھ رہے اور آپکی زندگی کا نزدیک سے مشاہدہ کیا انہوں نے قاری محمود الحسن اعلی اللہ مقامہ کے ہر بابرکت کام میں خدا کی رضایت و خشنودی کے سوا کچھ نہیں دیکھا
آپ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے سچے عاشقوں میں سے تھے اور امام کے مطیع محض تھے آپ پاکستان میں پرچم دار ولایت تھے آپ نے انقلاب اسلامی سے پہلے نجف اشرف میں امام خمینی (رح) سے کسب فیض کیا اور اسی طرح انقلاب اسلامی کے بعد بھی امام (رح) سے مشرف بہ ملاقات رہے اور امام(رح) کی آپ پر خاص عنایات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھیں
آپ نے قرآن دوست ہونے کے ناطے ملت کو عظیم تحفہ امامیہ قرأت کالج کی صورت عطا کیا جس سے ہزاروں قرآن پڑھنے والے افراد کی تربیت کی اور شیعہ قوم کے سپرد کیے
جن کو شجرہ طیبیہ کی شکل میں ملت کے مختلف قرآنی اداروں کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے جو انکی چالیس سالہ الہی خدمات کا نتیجہ ہیں جو تا قیامت زندہ و جاوید رہیں گی
جو شخص بھی آپ سے ملاقات کرتا آپ کے اخلاق حسنہ کی بدولت آپکا گرویدہ ہوجاتا اور آپ سے ملاقات کا مشتاق رہتا
آپ نے وطن عزیز کے لیے بھی وہ خدمات انجام دیں جو رہتی دنیا تک باقی رہیں گی آپ کو مملکت پاکستان نے قومی خدمت کے سلسلہ میں بے شمار اعزازات سے نوازا
آج بھی قاری محمود الحسن اعلی اللہ مقامہ ہماری آنکھوں میں اسی طرح ہنستے مسکرا رہے ہیں جس طرح وہ ہمیشہ اپنے ملنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتے اور محبت کرتے تھے
آج کے دن سن ۲۰۰۱ میں وہ ہم سے جدا ہو گئے اور وعدہ الہی کے مطابق وہ خدا سے راضی ہوئے اور خدا ان سے
پر آج بھی ہماری آنکھیں انکی جدائی سے نم ہیں ان کی یاد ہمیں ماضی کی خوشگوار اور معطر فضا میں لے جاتی ہے جہاں کہیں وہ ایک شفیق باپ ،استاد ، دوست ،رہنما ، مدبر ومدیر ، وظیفہ شناس اور بے کسوں کے آسرے کی شکل میں ہمیں توانا نظر آتے ہیں آج بھی انکی یاد سے آنکھیں نمدار ہو جاتی ہیں
اللہ سے دعا ہے کہ وہ قاری محمود الحسن اعلی اللہ مقامہ کے دراجات کو قرآن و اہل بیت(ع) کے صدقے مزید بلند فرمائے اور ہمیں ان کے قرآن کے مشن کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

بشکریہ : ہفت روزہ رضاکار

اعتراف: اس تحریر کی تیاری میں بیشتر معلومات قاری محمودالحسن مرحوم کے فرزندگان عزیزم قاری مستحسن و عزیزم علی اظفر نے فراہم کی ہیں

Leave a Reply