نور الھدیٰ مرکز تحقیقات (نمت ) اسلام آباد

ادارے کا  ڈھانچہ

’’نمت ‘‘کا اداری ڈھانچہ ایک ہیئت  علمی ، چیئرمین نور الہدیٰ ٹرسٹ اورڈائریکٹر “نمت”پرمشتمل ہے۔

ادرۂ  نمت کی اہم  پالیساں

  1. “نمت”کی تگ و دو کا دائرہ کار محض تعلیمی اورتحقیقی میدان میں فعالیت میں منحصر ہے۔
  2. عصری تعلیم کے لحاظ سے ترجیحی بنیادوں پر “نمت” کا مخاطب، ایف۔اے کی سطح سے اوپر کے کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباءو طالبات، نیز پروفیسرز حضرات اور دانشور طبقہ ہو گا۔ اور دینی تعلیم کے لحاظ سے “نمت” کا مخاطب، دینی مدارس کے اساتذہ، محققین اور دینی اسکالرز ہوں گے۔
  3. مذہبی، مسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کر، ہر اُس دانشمند کی تالیف و تصنیف کی نشر و اشاعت “نمت”  کی پالیسی ہے جو اس کے نصب العین کے حصول کی راہ میں معاون ثابت ہو۔
  4. اپنے اہداف کے حصول کےلئے ہمفکر محققین سے رابطہ اور ان سے مشورت۔
  5. جدید محققین کی تربیت بھی “نمت”   کی پالیسی شمار ہوتی ہے۔
  6. اگرچہ اسلامی تعلیمات کے سینکڑوں موضوعات تحقیق طلب ہیں لیکن “نمت” کی پالیسی،  قرآن و سنت، تعلیم و تربیت، اخلاق، فلسفہ و عقائد، تاریخ و سیاست، فقہ و اصول اور عمرانیات کے تمام تحقیق طلب موضوعات پر رہنما تحریریں اور تحقیقی مواد پیش کرنا ہے۔
  7. مخاطبین اور موضوعات کی تعیین کے بعد “نمت” اس امر کا جائزہ لے گا کہ آیا معیّن موضوعات اور مخاطبین کےلئے:
  • مکتب تشیع کے پاس پہلے سے کوئی لٹریچر اردو زبان میں موجود ہے؟ اگر ہے تو اُس کی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا اور نیا کام یا تکراری کام انجام دینے کی بجائے پہلے سے موجود لٹریچر کی ترویج یا احیاء کیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر، نَمت عربی اور فارسی میں  انجام شدہ کاموں کا ترجمہ  ایک عمیق مطالعہ اور تہذیب کے بعد جو کہ از خود ایک تحقیقی کام ہے، پیش کرے گا۔
  • ضرورت کی بنیاد پر نَمت بالکل ابتکاری اور تحقیقاتی کام انجام دے گا۔
  • ترجیح میں قرار پانے والے موضوعات اور مخاطبین کےلئے دیگر فرق و مذاہب کے تحقیقاتی کام کی شناسائی اور اس کا مکتب تشیع کے نکتہ نظر سے ناقدانہ جائزہ اور اس کی ترویج یا تردید بھی نَمت کی پالسی ہو گی۔
  1. “نمت”کی یہ پالیسی ہو گی کہ انجام شدہ تحقیقات کو مختلف فارمیٹس (کتاب، مقالہ، سیمینار، آڈیو، ویڈیو اور ڈاکمنٹری فیلم وغیرہ ) میں مختلف اصناف اور سطوح کے قارئین کےلئے پیش کیا جائے۔
  2. اپنی تحقیقات پیش کرتے ہوئے ملکی سالمیت، قومی یکجہتی اور اتحاد اُمت کو مدنظر رکھنا “نمت”  کی پالیسی ہے۔ نیز پاکستان کے قومی نظریہ کو اجاگر کرنا بھی “نمت” کی اساسی پالیسی ہے۔
  3. کسی فرقے یا مسلک و مذہب کے اعتقادات پر نقد و تبصرہ میں خود اُسی فرقے یا مسلک و مذہب کی نظریاتی توجیہات کو مدّنظر رکھنا اور اپنا مؤقف پیش کرنے میں ناصحانہ لب و لہجہ اپنانا “نمت” کی پالیسی ہے۔

تحقیقاتی منصوبے

۱۔ نشر و اشاعت

 “نمت” کی فعالیت کا ایک اور محور “نمت” کے نصب العین اور اہداف سے ہماہنگ مختلف محققین،مترجمین اور مؤلفین کی کتابوں کی نشرو اشاعت ہے۔

۲۔نور الہدیٰ ٹرسٹ کے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون:

نور الہدی ٹرسٹ کے دیگر ادروں کے ساتھ علمی، تحقیقی تعاون ، “نمت” کے مستقل تحقیقاتی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

۳۔تربیت مترجم، مصنف و محقق

مترجمین، مصنفین اور محققین کی تربیت بھی “نمت” کا ایک مستقل تحقیقی منصوبہ ہے۔ یہ ادارہ اس وقت بھی بالواسطہ کئی ایک صاحبان فضل و کمال کو قلم اٹھانے کی جرأت اور حوصلہ دلا رہا ہے اور اب تک کئی اہل قلم کے مقالات اور تحریروں کی نوک پلک سنوار کر انہیں اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ چھپ کر منظر عام پر آ سکیں۔ نیز یہ ادارہ نور الہدیٰ ٹرسٹ سے وابستہ مدارس کے طلباءو طالبات میں لکھنے اور تحریر و تصنیف کا جذبہ اجاگر کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور مستقبل میں اس کام کو مزید آگے بڑھائے گا۔

نمت کے ترجیحی موضوعات

۱۔قرآنیات

اس میں شک نہیں ہے کہ شیعہ علماء اورمفسرین نے قرآن کریم پر قابل ذکر کام کیا ہے لیکن برصغیر پاک و ہند میں اس حوالے سے ابھی تک بہت سا کام متعارف نہیں کروایا گیا۔ اس کام کو متعارف کروانا بہت ضروری ہے۔تاہم یہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ مخاطبین کی ایک کثیر تعداد اپنی مصروفیات اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر ان تفصیلی تفاسیر کا مطالعہ نہیں کر سکتی۔ لہٰذا مختلف تفاسیر کے تراجم کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کہ چند اہم جدید و قدیم شیعہ تفاسیر اور علوم قرآنی پر موجود عربی فارسی لٹریچر کا مناسب انتخاب ، اردو زبان میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا “نمت” اس کام کی انجام دہی کو اپنی ترجیح اول سمجھتا ہے۔

۲۔حدیث

“نمت” کےلئے دوسری ترجیح حدیث ہے۔ پاکستانی قوم میں حدیث پر کام کرنے کی اشدّ ضرورت ہے۔ کیونکہ یہاں بعض حلقوں میں حدیث کو منفی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو بعض حلقوں میں حدیث کو ایسی اہمیت دی جاتی ہے کہ درایت کو بھول کر روایت کا مقلّد بنا دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حدیث دشمنان دین اور گمراہ افراد کے سوءاستفادہ کا ایک اہم منبع بن چکی ہے۔ دوسری طرف معاشرے کی ایک کثیر تعداد روایات، بالخصوص صحیح روایات سے غافل اور روایت کے ہم تک پہنچنے کے Process اور منابع دین میں اس کی حیثیت و مقام سے غافل ہے۔ لہٰذا اس زاویہ سے حدیث پر محققانہ کام کی اشد ضروورت ہے تاکہ ایک طرف سے اخباریت کی طرف معاشرتی رجحان اور درایت کو چھوڑ کر روایت کی غلامی سے ملّت کو نجات دلائی جا سکے اور دوسری طرف حدیث کی حقیقی منزلت آشکار کی جا سکے۔

۳۔فلسفہ و کلام

ہمارے معاشرے میں فلسفی و کلامی مباحث کا کوئی تقدّس نہیں ہے۔ حالانکہ ان مباحث اور علوم کی برکت سے قرآن و سنت سے بہت بہتر استفادہ  کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں عقائد کے باب میں جتنا کام ہوا ہے، وہ بیشتر مناظرانہ ہے۔ مناظرہ سے رقیب کو مات تو کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت تک پہنچنا فلسفے و کلام کی برکت سے ہی ممکن ہے۔ لہٰذا کلامی، فلسفی موضوعات پر تحقیقاتی کام “نمت”  کی تیسری متوازی ترجیح ہے۔

۴۔سیرت پیغمبر ؐوائمہ معصومین ؑ

اُسوہ حسنہ اور سیرت معصومین ؑ کی ہرزمانے میں بالخصوص عصر حاضر میں ضرورت کے پیش نظر سیرت پیغمبر ومعصومین  علیہم السلام بھی نمت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔

۵۔تبلیغات

سالانہ حضرت امام رضا علیہ السلام یا کسی دیگر امام و معصوم کی ذات، تعلیمات اور سیرت و کردار کو متعارف کروانے کےلئے سالانہ ایک علمی، تحقیقی سیمینار کا انعقاد، نمت کا ایک مستقل تحقیقاتی، تبلیغاتی منصوبہ ہے۔

نور الھدیٰ مرکزتحقیقات(نمت)کی علمی وتحقیقی فعالیت

الف:گروہ تحقیق وتالیف                  ب:گروہ ترجمہ                          ج:سہ ماہی علمی وتحقیقی ’’نور معرفت ‘‘

گزشتہ سالوں کے دوران مذکورہ گروہوں میں سےسہ ماہی’’ نور معرفت‘‘ کی فعالیت بہت نمایاں رہی ہے ،یہ مجلہ پہلے چھ شماروں تک شش ماہی شائع ہوتا رہا ہے اور پھر ۲۰۰۶ء میں اس کا باقاعدہ ڈیکلریشن حاصل کرلیا گیا تھا جس کے بعد یہ سہ ماہی شائع ہونے لگا ۔ چالیس شماروں تک یہ علمی وتحقیقی مجلہ قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترجمانی کرتے ہوئے شائع ہوتا رہا اور پھر مارچ ۲۰۲۰ءمیں مجلہ نورمعرفت کی HEC میں رجسٹریشن کے نتیجے میں پیش آنے والی بعض فنی مشکلات کے پیش نظر مدیر مجلہ نے مورخہ ۵مئی ۲۰۲۰ءکو مجلہ کے ٹرسٹ کا ایک مستقل شعبہ ہونے کی Resolution پیش کی ،جس کی منظوری بورڈ آف ٹرسٹیز نے ۱۹ مئی ۲۰۲۰ءتک دے دی۔اس کے بعد سے’’ سہ ماہی نورمعرفت ‘‘نورالھدیٰ مرکز تحقیقات (نمت)  سے جدا ہو کرنور الھدیٰ ٹرسٹ کا مستقل شعبہ شمار ہونے لگا ہے ۔اب یہ علمی وتحقیقی مجلہ (HEC)سے منظور شدہ مجلات کی فہرست میں آچکا ہے اور یونیورسٹی کی سطح پر مکتب اہل بیت ؑ کے پیروکار طلباء اور اسکالرز کے لئے علمی وتحقیقی میدان میں ممدومعاون ہے۔ابھی تک اس مجلے کے ۵۰ شمارے شائع ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں علمی وتحقیقی مقالات چھپ چکے ہیں ۔

اس کے علاوہ گروہ  تالیف وترجمہ نے بھی قابل قدر کام کیا ہے اور پاکستان کے علم دوست قارئین کی خدمت انجام دی ہے جس کی تفصیل یہ ہے:

تالیفات وتراجم چاپ شدہ

١۔ ترجمہ کتاب ’’حیات فاطمہ  (س) ‘‘    از:ڈاکٹر سید جعفر شہیدی  مرحوم،مترجم :سید حسنین عباس گردیزی (ترجمہ از زبان فارسی )

٢۔تعلیم الاحکام                                                                مترجم : مرحوم  منیرحسین  خان                  (ترجمہ از زبان فارسی )

٣۔ حضرت زینب (س) تاریخ کا ایک ناگزیر کردار                               مترجم :ملک اعجاز حسین                             (ترجمہ از زبان انگلیسی)

٤۔انوار فاطمیہ (چہل حدیث از حضرت فاطہ (س))                                                                           (ترجمہ از عربی)

٥۔امام خمینی سے ایک  مغربی دانشور کی ملاقات                   مترجم :ملک اعجاز حسین                             (ترجمہ از زبان انگلیسی)

۶۔حضرت امام رضا علیہ السلام ؛سیرت وتعلیمات              از سید رمیز الحسن موسوی

۷۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا اپنے شیعوں کے نام دستور العمل  : مترجم :سید حسنین عباس گردیزی (ترجمہ از زبان عربی)

۸۔قرآن ا ورنفسیاتی دباؤ :ازسید اسحاق حسینی کوہساری،مترجم غلام جابر محمدی                                        (ترجمہ از زبان فارسی )

۹۔معجزہ کیا ہے ؟: ازمحمد باقر سعیدی روشن  ،مترجم ادریس احمد علوی                                                     (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۰۔اسلامی پردہ  :ازحجۃ الاسلام مہدی مہریزی مترجم ضیغم ہمدانی                                                            (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۱۔امام خمینی   ؒ کے سیاسی افکار :ازاحمد جہان بزرگی مترجم  شیخ عبدالستار                                                     (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۲۔سول سوسائٹی : از ڈاکٹر حمید مولانا،مترجم ادریس احمد علوی                                                             (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۳۔قرآن اور پلورلزم :از محمد حسن قدردان ملکی ،مترجم  سید سجاد حسین کاظمی                                        (ترجمہ از زبان فارسی)

۱۴ ۔پیام قرآن (تفسیر نمونہ موضوعی) ج ۸،۹،۱۰    از آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی                             (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۵۔حیات علی بن الحسین ،ا زڈاکٹر سید جعفر شہیدی  مرحوم،مترجم :سید حسنین عباس گردیزی              (زیرطبع)  (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۶۔علی ؑاززبان علی ؑ، ز:ڈاکٹر سید جعفر شہیدی  مرحوم،مترجم :سید حسنین عباس گردیزی       (زیر طبع)  (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۷۔حیات امام جعفر صادق علیہ السلام ، ز:ڈاکٹر سید جعفر شہیدی  مرحوم،مترجم :سید حسنین عباس گردیزی(زیرطبع) (ترجمہ از زبان فارسی )

۱۸۔حضرت ابوطالب علیہ السلام بحوالہ علامہ جعفرمرتضیٰ عاملی  ؒ(انتخاب ازکتاب الصحیح من سیرۃ النبی ؐ، ز:مرتب و مترجم :سید حسنین عباس گردیزی (ترجمہ از زبان عربی)

۱۹۔اپنے شیعوں کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کا دستور العمل : مرتب و مترجم :سید حسنین عباس گردیزی (ترجمہ از زبان عربی)

نور الھدیٰ مرکز تحقیقات  سے وابستہ محققین ومترجمین 

۱۔سید حسنین عباس گردیزی

                سید حسنین عباس گردیزی حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل ، ادارۂ نور الھدی  کے چیئرمین  اور سہ ماہی  نور معرفت کے مدیر مسئول ہیں ۔اُنھوں نے چند علمی کتابوں کے ترجمے کئے ہیں :

۱۔ حیات فاطمہ ؑ: ڈاکٹر جعفر شہیدی کی کتاب کا فارسی سے ترجمہ(مطبوعہ)

۲۔حیات علی بن الحسین ؑ: ڈاکٹر جعفر شہیدی کی کتاب کا فارسی سے ترجمہ(غیر مطبوعہ)

۳۔علیؑ از زبان علی ؑ : ڈاکٹر جعفر شہیدی کی کتاب کا فارسی سے ترجمہ(غیر مطبوعہ)

۴۔حیات امام جعفر صادق ؑ: ڈاکٹر جعفر شہیدی کی کتاب کا فارسی سے ترجمہ(غیر مطبوعہ)

۵۔منثور جاوید : استاد جعفر سبحانی مدظلہ فارسی میں لکھی گئی تفسیر موضوعی کا ترجمہ (مطبوعہ)

۶۔معاد : آیت اللہ محمد تقی فلسفی کی کتاب کا فارسی کا ترجمہ (مطبوعہ)

۷۔الصیح سیرة النبی (جلد اول ودوم )آیت اللہ جعفر مرتضی عاملی کی کتاب کا عربی سے ترجمہ ( مطبوعہ)

۸۔ترجمہ مسئلہ فلسطین تالیف خسروشاہی

۹۔نہج الفصاحة الحاوی لقصار کلمات رسول اللہﷺ عربی سے ترجمہ

۱۱۔پیام قرآن ،ج  ۹،آیت اللہ مکارم شیرازی (ترجمہ اززبان فارسی)

سہ ماہی المیزان اسلا م آبادکے مختلف شماروں میں مندرجہ ذیل مقالات شائع ہو چکے ہیں اعجاز قرآن ،اعجاز قرآن کے مختلف پہلو (٢۔١)فصاحت وبلاغت قرآن کریم ،قصص قرآن کریم ،قصص قرآن کے مقاصد(٢۔١)قصہ حضرت موسیٰ اور اس کے نتائج، قرآن کریم میں اُمتوں کے عروج وزوال۔

علاوہ ازیں مجلہ نور معرفت  میں بھی اُن کے بہت سے مقالات شائع ہوچکے ہیں ۔

۲۔ ڈاکٹر شیخ  حسنین نادر

      ڈاکٹر شیخ  حسنین نادر حوزہ علمیہ مشہد وقم اور تہران یونیورسٹی کےفارغ التحصیل  ہیں ،فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تہران یونیورسٹی سے حاصل کی ہے اور ان کے بہت سے علمی وتحقیقی مقالات مجلہ نور معرفت میں شائع ہوچکے ہیں اور اس وقت  مجلہ نورمعرفت کے مدیر ہیں ۔ڈاکٹر شیخ حسنین نادر صاحب کی چار کتابیں  شائع ہوئی ہیں :

۱۔اسلام وماحولیات؛ از آیت اللہ جوادی آملی (ترجمہ از زبان فارسی )

۲۔منطق النجات ؛از ابن سینا (ترجمہ از زبان عربی)

۳۔اسلام واخلاقی اقدار ،(تالیف)

۴۔اصول فلسفہ وروش  رئالیسم:ازعلامہ طباطبائی وشہید مطہری،جلد اول(   ترجمہ  اززبان فارسی)

اسی طرح نمت کے زیرا ہتمام ترجمہ ہونے والی کتاب ’’پیام قرآن ‘‘ کی جلد نمبر ۸،۹،۱۰ پر نظر ثانی کا کام بھی کیا ہے۔

۳۔محمد اصغر عسکری

محمد اصغر عسکری حوزہ علمیہ قم کےفارغ التحصیل  اورجامعۃ الرضا کے سینئر اساتیذ میں سے ہیں اور خطیب توانا ہونے کے علاوہ قلم کے میدان میں بھی  اچھے  لکھاری اور محقق شمار ہوتے ہیں اُن کا تخصص علم کلام ہے مجلہ نور معرفت میں علم کلام کے موضوع پر اُن کے چند علمی مقالات شائع ہوچکے ہیں ۔

۴۔شیخ افتخار حسین جعفری

      فارغ التحصیل حوزہ علمیہ قم  اورحوزوی علوم کے مشہورمدرس ہیں ۔ا ُن کا  تخصص فلسفہ ومنطق ہے  ۔عربی وفارسی زبان سے ترجمے میں کافی دسترس رکھتے ہیں اور چند کتابوں کے مترجم ہیں ۔جن میں ایک ’’پیام قرآن  ج۱۰ ،از آیت اللہ مکارم شیرازی  بھی ہے ۔

۵۔ڈاکٹرروشن علی

ڈاکٹر روشن علی صوبہ سندھ کے مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل ہیں اور عصری تعلیم میں بھی ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں اور اس وقت اسلام آباد کے ایک فیڈرل کالج  میں تدریس کررہے ہیں ،ان کا تخصص نہج البلاغہ ہے اوراُنھوں نے نہج البلاغہ ہی کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ان کے بہت سے مقالات نور معرفت میں شائع ہو چکے ہیں ۔

۶۔ سید ثمر علی نقوی

      سید ثمر علی نقوی حوزہ علمیہ قم  کےفارغ التحصیل اور جامعۃ الرضا کے مدیر مسئول ہیں ۔اُنھوں کے بہت سے  علمی مقالات شائع ہوچکے ہیں۔اُن کا  تخصص قرآنیات ہے اور وہ حافظ قرآن بھی ہیں ۔

     ۷ ۔سید عقیل حیدر زیدی

      حوزہ علمیہ مشہد مقدس کےفارغ التحصیل ہیں اور مجلہ نورمعرفت میں ان کے بہت سے  دقیق وتحقیقی  مقالات شائع ہوچکے ہیں۔

۸۔نذر حافی :  حوزہ علمیہ قم  کے فاضل ہیں اور اس وقت حوزہ علمیہ قم میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم میں مشغول ہیں ۔اجتماعی وسیاسی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اُن کے  توانا قلم سے بہت سے مقالات منظر عام پر آچکے ہیں ۔اس وقت نورالھدیٰ مرکزتحقیقات(نمت) سے وابستہ ہیں اور اس مرکز کی ویب سایٹ کی مدیریت ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔

  ۹۔سید مزمل حسین نقوی : حوزہ علمیہ قم کےفارغ التحصیل اورجامعۃ الرضا اسلام آباد کے مدرس ہیں۔ ان کے بہت سے علمی وتحقیقی مقالات   چھپ  چکے ہیں جن میں سے بعض نور معرفت میں بھی شائع ہوئے ہیں ،ان کا تخصص فقہ ہے۔

۹۔ ڈاکٹر قیصر عباس جعفری

ڈاکٹر قیصر عباس جعفری نے یونیورسٹی آف تہران سے تاریخ اسلام میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کی چھ کتابیں  شائع ہوچکی ہیں جن میں سے چار ترجمے اور دو تالیفات ہیں۔ ٢ستمبر ٢٠١٩ سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ،اور ادارۂ نمت کے ساتھ بھی تعاون کرتے ہیں ۔

۱۰۔ڈاکٹر سید علمدار حسین نقوی

حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل ہیں ،تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری جامعہ المصطفی العالمیہ سے حاصل کی ہے۔فارسی زبان میں یونیورسٹی کے علمی مجلات کئی مقالات شائع ہوچکے ہیں حوزہ علمیہ قم میں مجتمع امام خمینی  ؒ اوردوسرے مدارس میں تدریس اور تحقیق کے فرائض انجام دے چکے ہیں متعدد سندی مقالات کے سپروائزراور ممتحن رہے ہیں ۔اس وقت ادارۂ نمت میں تحقیقی اُمور کے مسئول ہیں ۔

۱۱۔سید رمیز الحسن موسوی

      فارغ التحصیل حوزہ علمیہ قم ، نور الھدیٰ مرکز تحقیقات نمت کے ڈائریکٹر اور’’ مجلہ الراسخون ‘‘اور’’ پیام مسجد ‘‘ کے بانی ہیں،ہفت روزہ نوائے اسلام کراچی ،ماہنامہ سحر کراچی ،ماہنامہ العارف لاہور اور سہ ماہی نور معرفت میں سینکڑوں مقالات لکھے ہیں ۔درج ذیل کتابوں کے مترجم وموٗلف ہیں:

۱۔روشن حقائق (جلد اول )عدم تحریف قرآن                                                     ٢۔روشن حقائق (جلد دوم )تقیہ کی شرعی حیثیت

٣۔استعمار واستبداد کے خلاف علمائے عراق کی جدوجہد(تاریخ سیاسی علمای عراق)   ٤۔روشن خیالی اور مغرب پرستی

٥۔شواہد مودت اہل بیت رسول ﷺقرآن وسنت کی روشنی میں                        ۶۔امام خمینی کے اجتماعی وسیاسی افکار (مجموعہ مقالات )

۷۔باقی ماندہ زندگی ؛ایک نعمت۔(غیر مطبوعہ)

تراجم :

۷۔تفسیر راہنما جلد ٣۔٥۔از ہاشمی رفسنجانی

۸۔عدل الہی از دیدگاہ امام خمینی

  ٩۔امر بالمعروف ونہی عن المنکر از امام خمینی

 ١٠۔معاد از دیدگاہ امام خمینی

   ١١۔امام خمینی  اور اخلاق وسیاست از سید حسن اسلامی

   ١٢۔تلخ وشیریں حکایتیں  از امام خمینی

  ١٣۔استقامت  از آیت اللہ رضا صدر

۱۴۔نبوت از دید گا ہ  امام خمینی

١٥۔مفکر اسلام آیت اللہ مرتضیٰ مطہری شہید

۱۶۔پیام قرآن ،ج ۸،از آیت اللہ مکارم شیرازی (ترجمہ از زبان فارسی)

                                                                      ٭٭٭٭٭